صحت

موسمِ سرما: انسانی جسم پر حیران کن فائدے اور چیلنجز

جیسے جیسے درجۂ حرارت نیچے آتا ہے، سردی ہمارے جسم اور ذہن دونوں پر مختلف اور اکثر غیر متوقع اثرات ڈالتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی کے ساتھ جسمانی ردعمل بھی بدل جاتا ہے، اس لیے سرد موسم کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو جاننا صحت مند رہنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

ذیل میں وہ چند اثرات دیے جا رہے ہیں جو سردیوں میں ہمارے جسم میں نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں—
کچھ فائدہ پہنچاتے ہیں، تو کچھ احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔

کیلوریز زیادہ جلتی ہیں — وزن گھٹانے میں مددگار

سردی میں جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کیلوریز کے جلنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ یہ تبدیلی اتنی بڑی نہیں کہ صرف اسی پر وزن کم ہو جائے، لیکن اگر اس کے ساتھ ورزش اور صحت مند معمول بھی شامل کرلیا جائے تو چربی گھٹانے کی رفتار بہتر ہوسکتی ہے۔

انگلیاں پتلی محسوس ہونا

کئی لوگ سردیوں میں نوٹس کرتے ہیں کہ انگوٹھی ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ دراصل جسم ٹھنڈ سے بچنے کے لیے ہاتھ پاؤں کی چھوٹی ہڈیوں اور بافتوں میں خون کی روانی کم کر دیتا ہے، جس سے انگلیاں معمول سے کچھ پتلی محسوس ہوتی ہیں۔

ہڈیوں میں درد اور جکڑن

بہت سے افراد کو سرد موسم میں جوڑوں یا ہڈیوں میں درد کی شکایت ہوتی ہے۔ ٹھنڈ کی وجہ سے چھوٹی رگوں میں خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے، جس سے سوجن اور تکلیف محسوس ہوسکتی ہے۔ یہ خطرناک نہیں لیکن تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے، اس لیے گرم لباس پہننا اور دیر تک ٹھنڈ میں رہنے سے گریز کرنا فائدہ مند ہے۔

سرد موسم اور بینائی

شدید ٹھنڈ، برفانی ہوائیں اور برفباری آنکھوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسے علاقوں میں جہاں برف پڑتی ہے، آنکھوں کو جھماکے دار روشنی اور سرد ہوا سے بچانے کے لیے سن گلاسز کا استعمال ضروری سمجھا جاتا ہے۔

چہرہ اچانک سرخ ہوجانا

سردی میں جب جسم زیادہ اہم اعضا کو خون پہنچانے پر توجہ دیتا ہے تو چہرے کی طرف جانے والا خون وقتی طور پر کم ہوجاتا ہے۔ جیسے ہی آپ گرم جگہ آتے ہیں، خون کی گردش واپس بڑھتی ہے جس سے چہرہ تیزی سے لال پڑ جاتا ہے۔

دل کے مریضوں میں خطرہ بڑھ جانا

سردیوں میں دل کے دورے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہو جاتا ہے، خاص طور پر بزرگ افراد یا دل کے مریضوں میں۔ جسم جب درجۂ حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ آتا ہے۔

مزاج پر اثر — چڑچڑاہٹ اور اداسی

سردیوں میں دھوپ کم ملنے کی وجہ سے وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر موڈ پر پڑتا ہے۔ لہٰذا کچھ افراد اس موسم میں اداسی، بے چینی یا بے دلی کا زیادہ شکار ہو جاتے ہیں۔

ناک اور آنکھوں کا خشک ہو جانا

سرد موسم میں ہوا کی نمی کم ہونے کے باعث ناک اور آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں۔ جسم اس نمی کو دیگر اہم اعضا کے لیے محفوظ رکھتا ہے، اس لیے آنکھوں میں جلن اور ناک کی خشکی عام ہو جاتی ہے۔

ناک کا مسلسل بہنا

خشکی کا مقابلہ کرنے کے لیے جسم بلغم اور آنسوؤں کی پیداوار بڑھا دیتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی لوگوں کو سردیوں میں ناک بہنے کی مسلسل شکایت رہتی ہے۔

بار بار پیشاب آنا

ٹھنڈ میں خون کی روانی جسم کے اندرونی حصوں کی طرف بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے۔ گردے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے جسم سے زیادہ سیال فلٹر کرتے ہیں، جس سے پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

سانس لینے میں دشواری

ٹھنڈی ہوا پھیپھڑوں کی نالیوں میں سکڑاؤ پیدا کرتی ہے، جس سے سانس کا بہاؤ محدود ہو سکتا ہے۔ دمے یا سانس کے مریضوں میں یہ علامات زیادہ شدید ہوسکتی ہیں اور ٹھنڈی ہوا براہِ راست سانس میں لینا ان کے لیے مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button